Saudi Arab, Canada, and Thousand Lashes

My Urdu Op Ed published at Nia Zamana , Urdu Times, and Pakistan Times Canada.

It discusses the sudden dispute between Canada and despotic monarchy Saudi Arabia, because of Canada’s public expression of support of recently arrested women activists, including Samar Badawi, sister of imprisoned Saudi activist Raif Badawi.

Raif was arrested in 2012 on the accusation of blasphemy when he criticised several Saudi religious personalities.

He was convicted and awarded 10 years of jail and one thousand lashes. His wife Insaf Haider was also hounded and took refuge in Canada.

Canada’s attitude in this matters has been paradoxical: as at one hand it appears to support the Saudi activists, and on the other hand it defend its sales of armored carriers that are used against the activists as well as the citizens of Yemen.

Recent spat broke out when the Canadian foreign minister tweeted demanding release of Samar Badawi and other activists.

It has so infuriated the Saudi Crown Prince Mohammed ben Salman, that he expelled Canadian ambassador, ordered about 8,000 Saudi students to leave Canada, stopped Saudi Airline flights to Canada, and asked 800 Saudi doctors and residents in training to also leave Canada. Other harsh actions are expected.

Canada has said that it will stand firm for its values of supporting freedoms and free expression.

I suggest that it is an act of fine balance and hope that Canada succeeds in its support for values of freedom, and renounces it hypocrisy and duplicity of selling arms to despots who oppose the values of freedom.

Urdu article is appended here and can also be read at:

کینیڈا ۔ سعودی عرب ۔ ہزار کوڑوں کا جھگڑا


————————–

کینیڈا ؔ۔ سعودی عرب ؔ۔ ہزار کوڑوں کا جھگڑا

 کینیڈا  دنیا بھر میں ایک امن پسند ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس کا عموماً کسی اور ملک سے کوئی جھگڑا یا قضیہ نہیں ہوتا۔ ہاں ستم ظریفانہ  طور پر چند ایک استثنا کے ساتھ،  یہ ہمیشہ امریکہ کے جھگڑوں میں یا برطانیہ کے خارجہ امور کے قضیوں میں ان کا اتحادی بن کر جنگوں کا بوجھ اٹھاتا رہتا ہے۔ برطانیہ کے ساتھ تو اس کا سمبندھ سمجھ میں آتا ہے کہ کینیڈا اب بھی تاجِ برطانیہ کا اطاعت بردار ہے۔ خواہ یہ اطاعت صرف رسمی ہی کیوں نہ ہو۔ ہا ں یہ اطاعت اس حد تک تو ضرور رسمی ہے کہ کینیڈا کے ہر شہری کو برطانیہ کے تاجپوش کی اور اس کے وارثوں کی اطاعت کا حلف اٹھانا ہوتا ہے۔ یہاں کا وفاقی گورنر جنرل اور صوبائی نائب گورنر جنرل ، تاجِ برطانیہ کے نمائندے ہوتے ہیں۔

تاجِ برطانیہ کے وفادار ہونے کے ناطے کینیڈا، ان سب جنگوں میں شریک ہوتا رہا ہے جن میں تاجِ برطانیہ شامل ہو۔ اس میں عالمی جنگیں بھی شامل ہیں اور دیگر علاقائی جنگیں بھی۔ اس کے ساتھ امریکہ کا پڑوسی ملک ہونے کی بنا پر، اور نیٹو کا رکن ہونے کی وجہہ سے کینیڈا ،امریکہ کی بھی تقریباً ہر جنگ میں کوئی نہ کوئی حلیفانہ کردار ادا کرتا رہا ہے۔ کئی بار تو ان قضیوں میں امریکہ کا حلیف ہونے کی وجہہ سے اسے ایسی کاروایئوں میں بھی شریک ہوناپڑا ہے جو بین الاقوامی طور پر غیر قانونی سمجھی گئی ہیں۔ اور خود کینیڈا کی سپریم کورٹ نے اسے ان معاملات  پر لتاڑا بھی ہے۔ اور کینیڈا کو اپنے ان شہریوں کو معاوضے بھی ادا کرنا پڑے ہیں جنہیں بعض  بین الاقوامی غیر قانونی کاروایئوں کی وجہہ سے ذہنی یا جسمانی اذیت پہنچی۔ یہ بدقسمتی سے کینیڈا  کے معاملات کا ایک سیاہ رخ ہے ، جس پر اسے انسانی حقوق کے عمل پرستوں کی شکایتیں سہنا پڑتی ہیں۔

دوسری طرف انسانی حقوق کے معاملات میں بعض کمزوریوں کے باوجود ، کینیڈا دنیا بھر میں ان ممالک کی صفِ اول میں گنا جاتا ہے، جوان انسانوں کی مدد اور دست گیری میں پیش پیش ہیں جو ضمیر کی بنیاد پر اپنے ملکوں میں  جبر و تشدد سہتے ہیں یا در بدر ہو کر تارکِ وطن ہوجاتے ہیں۔ کینیڈا، ان معاملات میں نہ صرف آگے بڑھ کر مدد کرتا ہے بلکہ اپنی سرحدوں کو ایسےافتادگان کے لیئے کھول کر انہیں خوش آمدید بھی کہتا ہے اور ان کی ہر ممکن مدد کی کوشش کرتا ہے۔

یہی وہ رویہ ہے جس کے نتیجہ میں کینیڈاکو حیران کن طور پر، دنیا کی جابر ترین شہنشاہیت یعنی سعودی عرب کی سخت ترین مخالفت کا دھچکا پہنچا۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب نے, جس سے کینیڈا کے تعلقات ہمیشہ  دوستانہ دکھائے دیتے تھے، اچانک سعودی عرب سے کینیڈا کے سفیر کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا اور خود اپنے سفیر کو بھی کینیڈا سے واپس بلا لیا، اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے کینیڈا پر تجارتی پابندیاں عائد کر دیں ، اور اپنے ہزاروں طالب علموں کو کینیڈا سے واپس بلانے کا حکم دے دیا۔

یہ سب سعودی عرب کے نہایت سخت گیر  نوجوان ولی عہد شہزادے محمد ؔبن سلمان  کے حکم پر ہوا ۔ شہزادہ محمد بن سلمان گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ ؔ کی طرح اچنبھا خیز حرکتیں کرتے خبروں کی شہ سرخی بنت رہے ہیں۔وہ ایک طرف تو اپنے ملک کو آزاد خیال بنانے کے دعوے کر رہے ہیں، دوسری جانب خود اپنے شہریوں کے خلاف جابرانہ کاروایئاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کینیڈا کے خلاف سعودی عرب کی کاروائی انتہائی تعجب خیز اور اچانک تھی۔ کینیڈا کے سعودی عرب سے تعلقات عام طور پر دوستانہ رہے ہیں جن میں کبھی تلخی کا شائبہ بھی نہیں تھا۔ اس کے باوجود کہ کینیڈا سعودی عرب میں مقید ایک سعودی شہری ، رعیف بدوی ؔ کے انسانی حقوق کے مقدمہ میں اس کی اسی طرح سے حمایت کرتا رہا تھا جیسی کے وہ اس قسم کے دیگر معاملات میں کرتا ہے۔

رعیف بدویؔ کو  سنہ    2012      میں توہینِ مذہب کے اسی طرح کے الزامات میں گرفتار کیا گیا جیسا کے پاکستان میں روز ہی ہوتا ہے۔  ان پر الزام  تھا کہ انہوں نے الکٹرونک  میڈیا  یعنی فیس بُک اور ٹوئٹر کے ذریعہ سعودی عرب کی اہم مذہبی  شخصیات کی توہین کی, اور ان کے فتووں پر سوال اٹھا کر وہ  مذہب کی بھی توہین کرنے  کے بھی مجرم ہیں، اس الزام میں انہیں  دس سال قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا بھی سنائی گئی۔ یہ سزا اتنی شدید تھی کہ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں نے اس ضمن  میں آواز اٹھائی ۔ کینیڈا نے بھی اس میں اپنی آواز ملائی اور سفارتی بنیادوںپر سعودی عرب سے نرمی کی درخواست کی۔ کینیڈا اکثر ایسے معاملا ت میں اپنی سفارتی کوششیں کرتا ہے۔ کیونکہ اکثر جابر حکمراں اچھی عالمی شہرت رکھنے والے ممالک کا سفارتی دبائو طوعاً و کرہاً قبول کر کے اپنا رویہ کچھ نرم کر دیتے ہیں۔

سعودی حکمرانوں نے نہ صرف رعیف بدوی  پر ظلم کیئے، بلکہ اس کی بیوی انصافؔ حیدر پر بھی سختیا ں شروع کیں۔ اور اس حد تک  زچ کیا  کہ،  انصاف حیدر کے ماں باپ نے اس پر،رعیف بدوی سے طلاق لینے کے لیئے دبائو ڈالا کیوں کہ   وہ ان کے نزدیک و مرتد ہو گیا تھا۔ انصاف حیدر کو اپنی بچیوں کے ساتھ ملک سے فرار ہونا پڑا اور کینیڈا نے اسے پناہ فراہم کی۔  وہ گزشتہ پانچ سال سے یہاں مقیم ہے اور کینیڈا کی حمایت سے اپنے خاوند رعیف بدوی کے حق میں کوششیں کر رہی ہے۔

گزشتہ ہفتہ سعودی عرب نے رعیف بدوی کی بہن ثمر ؔبدوی اور دیگر خوتین عمل پرستوں کو گرفتار کیا جو وہاں خواتین کے انسانی حقوق کے بارے میں مطالبات کر رہی تھیں۔ اس پر کینیڈا کی وزارتِ خارجہ نے ان خواتین کے حق میں ایک مختصر بیان جاری کیا جس میں مطالبہ کیا تھا کہ ان خواتین کو رہا کیا جائے اور ان  سے نرمی کی جائے۔

اس مطالبہ نے سعودی حکومت اور بالخصوص  ولی عہد محمد بن سلمان ؔ کو سخت برہم کردیا۔ جس کے بعد تابڑتوڑ انتہائی حیران کن اقدامات کی خبریں آنے لگیں۔ پہلے کینیڈ ا کے سفیر کو نکالا گیا، پھر سعودی عرب کے ہزاروں طالب علموں اور مشیروں کو کینیڈا سے منتقل کرنے کا حکم دیا گیا، اب یہ امریکہ یا برطانیہ بھیجے جایئں گے۔ اس کے فوراً بعد کینیڈا سے سعودی عرب کی پروازوں پر پابندی لگا دی گئی۔ اور بھی اقدامات کا امکان ہے۔

یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ انسانی حقوق کے تمام معاملات کی حمایت کے باوجود کینیڈا نے گزشتہ سالوں میں اپنے عمل پرستوں کے تمام مطالبات کے باوجود سعودی عرب کو اربوں ڈالر کا اسلحہ فراہم کیا ہے۔ بالخصوص وہ بکتر بند گاڑیاں جو سعودی عمل پرستوں اور یمن کے مظلوم شہریوں کے خلاف جابرانہ طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ کینیڈا کی وہی حکومت جو اس وقت انسانی حقوق کی آواز اٹھارہی ہے، سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت کا دفاع بھی کرتی رہی ہے۔

سعودی اقدامات کے بعد ایک بار پھر کینیڈا کی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ کینیڈا کسی خسارے کے خطرے کے باوجود انسانی حقوق کے حق میں آواز اٹھاتا رہے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کینیڈا اپنے فوجی اور تجارتی مفادات اور انسانی حقوق کے بارے میں اپنی اقدار کے درمیان مشکل توازن کیسے قائم رکھتا ہے۔ ہم تو یہی چاہیں گے کہ انسانی حقوق کا پلڑا بھاری ہو لیکن اس کے لیئے منافقانہ مفادات سے جان چھڑانی ہوتی ہے۔ کاش ایسا ہو سکے!

 

 

 

 

 

 

Yearning to nurture our motherland…..آرزو ہے کہ آباد ہو شہرِ جاں

My Urdu Op-ed published at Nia Zamana of Mohammad Shoaib Adil and print editions of Urdu Times and Pakistan Times.

It argues that even a weak democratic set up is preferable to military dictatorships. That the regular democratic changes of government keeps pushing the Juntas back. It hopes that the results of elections reflect the true aspirations of citizens of Pakistan.
——————————————

آرزو ہے کہ آباد ہو شہرِ جاں

 

جب یہ تحریر آپ کی نظروں میں آئے گی، پاکستان میں انتخابات یا بعضوں کے مطابق یک طرفہ چنائو کا عمل مکمل ہو چکا ہوگا۔ ہم جیسوں کی صرف ایک خواہش اور امید ہے کہ نتائج حقیقی طور پر پاکستان کے عوام کی امنگوں اور مرضی کے مطابق ہوں۔ نتیجہ جو بھی ہو وہ پاکستان کے حق میں بہتر ہو.

 پاکستان روزِ اول سے جمہوریت اور آمریت کے مختلف ادوار سے گزرتا رہا ہے۔ وہاں مقتدرہ کی ایسی آمریت کہ جس پر پاکستان کی افواج کا غلبہ رہا ہے، ہمیشہ ایک مدت سے اپنی من مانی کرتی رہی ہے۔ہمارے  خیال میں پاکستان کی مقتدرہ ،وہاں کے جاگیر داروں، بڑے سرمایہ داروں، اعلیٰ عدلیہ، افسر شاہی، اور بڑے میڈیا ، اور قدامت پرست مذہبی افراد، اور اعلیٰ  فوجی افسران ،کے طاقتور گروہوں پر مشتمل ہے۔ اس کے برخلاف مختلف عرصوں میں ایک کمزور جمہوری آواز  بھی اٹھتی رہی ہے، جسے فوجی آمریت کے عفریت کے ساتھ مصالحت کر کے اپنا دور پورا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان کے مقتدر طبقہ کو کمزور جمہوری حکومتیں بھی پسند نہیں ہیں۔ ا س کی وجہہ یہ ہے کہ کسی بھی جمہوری دور میں چاہے وہ کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہوں ، مقتدر طبقہ کی مراعات پر اثر پڑتا ہے اور اس طبقہ کی من مانی پوری طرح سے نہیں ہو پاتی۔ جمہوریت کا ایک خاصہ یہ ہوتا ہے کہ ہر ملک میں رفتہ رفتہ دسیوں بیسیوں سیاسی جماعتوں میں سے دو یا تین جماعتیں سامنے آتی ہیں جن کو عوام اقتدار منتقل کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کی کمزور جمہوری تاریخ میں یہ جماعتیں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں میں اقتدار ان ہی میں تبدیل ہوتا رہا ہے ، اور ان پر بھی پسِ پشت مقتدرہ کا دبائو رہا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی افواج کا ایک غیر دانشمند طبقہ ہماری مقتدرہ کا چہرہ  یا نمائندہ رہا ہے۔

جمہوری اور سیاسی حکومتوں پر لازم ہوتا ہے کہ وہ عوام کی بہبود کے لیئے کام کریں۔ بہبودی کام کرنے کے لیئے مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں وسائل غیر مساوی طور پر منقسم ہیں۔کسی بھی حکومت کے مالی وسائل صرف ٹیکسوں پر مبنی ہوتے ہیں۔  وہاں ذراعت اور زمینوں پر ٹیکس نہیں ہیں، اس کی وجہہ یہ ہے کہ ہماری مقتدرہ کا غالب طبقہ زمینداروں اور جاگیر داروں پر مبنی ہے۔جو زرعی ٹیکسوں کو زیادتی گردانتا ہے۔ اسی طرح ٹیکس کا عام نظام بھی قطعاً                   نا کافی اور کمزور ہے۔ تنخواہ دار  اور کاروباری افراد کی ایک اقلیت کو پورے ملک کے وسائل کی فراہمی کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔اس سے جو بھی آمدنی ہوتی ہے اس کا ایک خطیر حصہ فوجی اخراجات کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جس کا واضح حساب کتاب بھی نہیں ہوتا ہے۔

جیسا کہ ہم نے پہلے کہا تھا کہ جمہوری عمل میں بہت  سی جماعتوں میں سے صرف چند جماعتیں حکومتیں بناتی ہیں۔ پاکستان کے وقفہ وقفہ سے مختصر جمہوری دور میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، عوامی نیشنل پارٹی ، ایم کیو ایم ، ابھر کر سامنے آئیں ۔ اورکچھ عرصہ تک اقتدار ان کو یا ان کی مخلوط  حکومتوں کو منتقل ہوتا رہا ۔ ان میں سے پیپلز پارٹی اور اے این پی وہ جماعتیں ہیں جو عام   طور پر مقتدرہ کے زیادہ اثر میں نہیں رہیں۔ اور انہوں نے کچھ ایسے کام کرنے کی کوشش کی جو  عوامی رضا کے قریب ترین تھے ۔ مسلم لیگ عام طور پر مقتدرہ کی حمایتی جماعت رہی۔ اس جماعت کو پاکستان کے قدامت پرست طبقوں کی بھی حمایت حاصل رہی۔

  بعض جمہوری ملکوں میں جہاں اقتدار صرف دو جماعتوں میں منتقل ہوتا رہا ہو، ایک تیسری جماعت بھی ابھر کر آتی ہے۔ پاکستان کے گزشتہ بیس سال میں وہاں جو تیسری جماعت سامنے آئی وہ تحریکِ انصا ف ہے۔ اس نے خود کو کرپشن مخالف جماعت کے طور پرپیش کیا ۔ نظریاتی طور پر یہ بھی مسلم لیگ کی طرح قدامت پرست دایئں بازو کے خیالات کی حامی ہے۔

کسی بھی ملک میں ایسی مقتدرہ جس کی نمائندگی وہاں کی افواج کرتی ہیں، جمہوری عمل کو یا تو اپنے مکمل قبضہ میں رکھنا چاہتی ہے یا کم از کم اپنے زیرِ اثر۔ لیکن جمہوری عمل کی مشکل ہے کہ یہ فطری طور پر مقتدرہ مخالف ہوتا ہے اور ملکی معاملات  میں آزادی چاہتا ہے۔ اس میں کوئی شبہہ نہیں ہے کہ ہماری مقتدرہ مختلف ادوار میں پپیلز پارٹی اور مسلم لیگ پر دبائو ڈال کر  اپنا کام نکالتی رہی۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ اس نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، اور اے این پی کو کمزور اور محدود کرنا شروع کیا۔ پیپلز پارٹی کو سندھ میں دھکیلا گیا، اے این پی کو تقریباً ختم کیا ، اور مسلم لیگ کے دائرہ کار کو پنجاب میں محدود کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مقتدرہ نے ابھرتی ہوئی جماعت تحریکِ انصاف کو اپنے قابو میں کرنا شروع کیا اور پاکستان کے موجودہ انتخابات میں مقتدرہ کی تمام تر حمایت تحریکِ انصاف کو حاصل ہے۔

ہماری اورہم جیسے لاکھوں عوام کی آرزو، امنگ، اور خواہش یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوری عمل قائم ہو چاہے وہ بظاہر کمزور  ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی وجہہ یہ ہے کہ کمزور تر جمہوری عمل ، جابرانہ آمریتوں سے بالخصوص ایسی آمریتو ں سے جس پر فوج کا غلبہ ہو کہیں بہتر ہوتا ہے۔ مسلسل جمہوری عمل اور عوام کے ووٹ کا استعمال جمہور ی روایتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ جمہوری عمل کے ذریعہ منتخب حکومتیں فطری طور پر مقتدرہ کے دبائو سے آزاد ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ اور رفتہ رفتہ ہر ملک میں جمہوری روایت مستحکم ہوتی جاتی ہے۔

 ہم پاکستان میں جمہوریت کا فروغ اور استحکام چاہتے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ پاکستان کے عوا م کی آرزو بھی یہی ہے کہ ان کا شہرِ جاں جمہوری روایتوں سے آباد اور قائم ہو۔

 

دنیا کی ایک اہم عدالت میں انقلابی تبدیلی کا امکان

My article in Urdu published at Niazamana.com, Urdu Times, and Pakistan Times.
It discusses the forthcoming changes at the US Supreme Court that will tilt into a 6-3 conservative majority,
Such a change would have fa reaching impact on the Society and Social Rights of the US citizen. It will also influence other societies with ascendant fundamentalism, and conservatism in becoming harsher societies.
It will affect women’s rights, racial equality, gender equality, ads well as established scientific thinking.

ہم اور آپ اکثر پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے دور رس فیصلوں کے بارے گفتگو کرتے ہیں۔ ان فیصلوں کا پاکستان کے عوام اور سیاست پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ جن میں پاکستان کے وزیرِ اعظم کی برطرفی اور نااہلی کے معاملات بھی شامل ہیں ، اور دیگر آئینی معاملات بھی ۔  پھر ہم پاکستان کی اعلیٰ عدالت کے اعلیٰ منصف کے اس رویہ کے بارے میں تشویش کرتے ہیں جس میں فاضل منصف اپنے سامنے پیش ہونے والوں کے ساتھ بد زبانی  کرتے ہیں اور درشتی سے پیش آتے ہیں۔ یا پھر کسی ذیلی عدالت کے منصف کی تذلیل کرتے نظر آتے ہیں۔

 اور اب تو فاضل مصنف نے پاکستان کے دریاوں پر بند باندھنے کے لیئے چندے جمع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد پاکستان کی مسلح افواج کے افسروں اور سپاہیوں نے اس ضمن میں اپنی تنخواہیں وقف کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں فیصلوں کا اختیار صر ف پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومت کا استحقاق ہے۔حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کا اثر صرف پاکستان پر ہی ہوتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی اس کے سیاسی فیصلوں یا سیاسی معاملات میں دخل اندازی کی باز گشت بین الاقوامی میڈیا تک بھی پہنچ جاتی ہے لیکن صرف ایک چھوٹی خبر کی حد تک۔

پاکستان کے بر خلاف دنیا کی بعض اعلیٰ عدالتوں میں ایسے فیصلے ہوتے ہیں جن کا اثر دنیا بھر میں انسانی حقوق، بین الاقوامی تعلقات، اور روز مرہ کی زندگی پر ہوتا ہے۔ ان عدالتوں کے فیصلوں کی نظیریں دنیا کی دیگر عدالتوں کے فیصلوں پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

ایسی عدالتوں میں امریکہ کی اعلیٰ عدالت یا امریکی سپریم کورٹ شامل ہے۔ امریکہ میں نو منصفوں پر مشتمل اس عدالت کے فیصلوں کی باز گشت اور ان کا اثر ہی ہے جس کے نتیجہ میں امریکی جمہوریت اور اس کے سیاسی نظام کا ارتقا ہواہے۔ اس عدالت کے فیصلے امریکہ کے آئین کی تفہیمات کے بارے میں حتمی سمجھے جاتے ہیں۔ کسی بھی  آئینی  فیصلہ کے بعد اس میں تبدیلی یا ردو بدل میں بیسیوں سال لگ جاتے ہیں۔ یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ امریکہ کا آئین وہاں کے شہریوں کے لیئے مذہبی صحیفوں کے بعد ایک انسانی صحیفہ جانا جاتا ہے۔  ایسا صحیفہ کہ جو امریکہ میں قانون سازی کو مذہبی صحیفوں سے دور رکھنے کا ضامن ہے۔

امریکہ کا سیاسی نظام دیگر ممالک کی طرح تین اداروں یعنی مقننہ ، عدلیہ ، اور انتظامیہ کے درمیان ایک بہت ہی محتاط توازن پر قائم ہے۔ امریکی جمہوریت ، صدارتی طرزِ حکومت پر قائم ہے۔ جہاں صدر کے حقوق اور استحقاق بہت زیادہ ہیں۔ ان اختیارات کو آمرانہ نہج پر پہنچنے سے محفوظ رکھنے کے لیئے مقننہ کے دو ایوان اور عدلیہ نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کے عوام کو کسی ایسی مقننہ کے  فیصلوں سے محفوظ رکھنے کے کے لیے جس میں اکثریت کا ظالمانہ یا غیر منصفانہ رویہ شامل ہو، امریکہ کی اعلیٰ عدالت اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کا ہر فیصلہ  نو رکنی مکمل بنچ کا فیصلہ ہوتا ہے۔

اعلیٰ عدلیہ کا چناو امریکہ کے نہایت بااختیارصدر کا ایک نہایت اہم استحقاق ہے۔ صدر کو اعلیٰ عدالتوں کے چناو کا حق حاصل ہے۔ اس میں توازن رکھنے اور اسے ایک حد تک غیر جابندارانہ بنانے کے لیے امریکی مقننہ کا اعلیٰ ایوان ،  یا سینیٹ،  صدر کے نامزد کردہ جج کے بارے میں نظرِ ثانی کا  ذمہ دار ہے۔ وہاں کا سیاسی نظام اس طرح کا ہے کہ اکثر صدارت ایک جماعت کا ہوتا ہے ، اور اس کی مقننہ کے دو ایوان صدر کی جماعت سے مختلف جماعت پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔ ایسا خال خال ہی ہوتا ہے کہ صدر، اور مقننہ کے دونوں ایوان ایک ہی جماعت کی اکثریت والے ہوں۔ اس طرح سے وہاں کے سیاسی نظام میں توازن اور بھی یقینی ہوجاتا ہے۔

امریکہ کی اعلیٰ عدالت کے آئینی فیصلوں کی اہمیت کی وجہ سے وہاں سپریم کورٹ کے منصف کی نامزدگی نہایت اہم ہوتی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے منصفوں کی مدت تا حیات ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شبہہ نہیں ہے کہ یہ منصف اپنے سیاسی اور آئینی نظریات بھی رکھتے ہیں۔ ان نظریات میں بھی قدامت پرستی یا آزاد خیالی شامل ہوتی ہے۔ امریکہ میں ریپلیکن پارٹی، قدامت پرست نظریات کی جماعت ہے، اور ڈیموکریٹک پارٹی ، آزاد خیال نظریات والی جماعت جانی جاتی ہے۔ یہ دونوں جماعتیں یہ کوشش کرتی ہیں کہ اعلیٰ عدالت کے منصف ان کے نظریات کی طرف جھکاورکھتے ہوں۔

 سالہا سال سے اس عدالت میں قدامت پرست اور آزاد خیال، تقریباً برابر تعداد میں شامل تھے۔ ان کے اکثر فیصلے پانچ اور چار کی اکثریت سے ہوتے رہے ہیں۔ کئی فیصلوں میں کوئی ایک جج قدامت پرستی یا آزاد خیالی کے حق میں فیصلہ کرکے توازن کو قائم رکھنے میں مدد کرتا نظر کرتا نظر آتا رہا ہے۔

فی الوقت امریکہ میں یہ صورت ہے کہ وہاں صدر، اور مقننہ کے دونوں ایوان قدامت پرست جماعت کے نمائندہ ہیں۔ دونوں ایوانوں میں قدامت پرست جماعت کی اکثریت ہے۔اس صورتِحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے،سخت قدامت پرست امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کو اعلیٰ عدلیہ میں ایک ایسے جج کو متعین کرنے کا موقع ملا کہ وہاں عدالت پانچ قدامت پرست اور چار آزاد خیال ججوں میں واضح طور پر منقسم ہو گئی۔

حال ہی میں وہاں سپریم کورٹ کے ایک ایسے جج نے ریٹائر ہونے کا اعلان کر دیا ہے جو کبھی قدامت پرست اور کبھی آزاد خیال ججوں کا ساتھ دیتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں صدر کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اب ایک اور قدامت پرست جج کو نافذ کردیں اور عدالت میں چھ  جج واضح طور پر قدامت پرست ہو جائیں۔ اس ہفتہ انہوں نے ایسے ہی ایک جج کو نامزد کردیا۔ اس نامزدگی کی مقننہ کے اعلیٰ ایوان میں توثیق یقینی ہے۔ اس نامزدگی کے بعد شدید خطرہ ہے کہ امریکہ میں انسانی ، سماجی، اور معاشرتی حقوق کے بارے میں کئی سابقہ فیصلے تبدیل ہو جائیں گے۔ یا کچھ ایسے نئے فیصلے سامنے آئیں گے جو امریکہ میں حقوق اور معاشرتی انصاف کے نظام کو قدامت پرستانہ بنا دیں۔

ان فیصلوں میں خواتین کا اسقاطِ حمل کا حق،

تعلیمی اداروں میں سیاہ فاموں کے حقوق، روز مرہ کے معاملات میں مذہبی مداخلت، تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے حقوق ،  غیر ملکوں کے امریکہ میں داخلے کا حق، اور ایسے ہی کئی دیگر معاملات شامل ہیں۔دنیا بھر میں آزاد خیالی ، معاشرتی انصاف، اور انسانی حقوق کے عمل پرستوں کو اس صورتِ حال پرتشویش ہے۔ اب یہ امکان بڑھ رہا ہے کہ امریکی معاشرے کا جھکاو قدامت پرستی کی طرف ہو جائے۔ جس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی قدامت پرستی میں شاید اور اضافہ ہو۔

سالار ڈیکو ریٹرز کی شادی مینیجمنٹ: Salar Decorators’ Wedding Management

An audio recording of Wusatullah Khan’s article, Salar Decorators ki Shadi Management. This article was published at BBC Urdu at the following link.
سالار ڈیکوریٹرز کی شادی مینیجمنٹ

Listen to the audio at this link:

Audio recording by Munir Saami

اردوزبان و ادب کا ایک درخشاں باب ختم ہوا

My article on Mushtaq Yusufi published at Niazamana online and other print media.

اردوزبان و ادب کا ایک درخشاں باب ختم ہوا

گزشتہ دنوں مشتاق احمد یوسفیؔ کی وفات کے بارے میں یہ کہنا کچھ غلط نہ ہو گا کہ اردو زبان و ادب کا ایک درخشاں باب ختم ہوا، جس کی تابانی ابد تک قائم رہے گی۔ تمام تر لسانی سیاست اور تعصب کو الگ کرکے یہ مان لینا بھی کوئی غلط نہیں ہے کہ اردو زبان ،پاکستان کی ثقافت کا ایک لازمی عنصر ہے جس کا اثر پاکستانی معاشرہ پر گہرا ہے۔ سو یہ کہنا بھی کوئی غلط نہیں ہوگا کہ یوسفی صاحب کے انتقال سے پاکستان کی ثقافت کو بڑا  نقصان ہوا ہے۔ ان کی تصانیف ہماری ثقافت کے خزانہ کا پیش بہا حصہ بھی ہیں ، اور ہماری ادبی روایت کا سرمایہ اور وراثت بھی۔

یوسفی صاحب کو عام طور پر صرف ایک مزاح نگار کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ جب کہ وہ اردو ادب کے اہم ترین نثر نگاروں میں سے ایک تھے۔ اس کو سمجھنے کے لیئے لازم ہے کہ ہم ان کے جملوں کی قرات کے فوری اثر یا جادو سے نکل کر کے اس ذو معنیت  یا ان کنایوں کو محسوس کریں جو ہر بڑے لکھنے والی کی تحریر کا اہم ترین جزوہوتے ہیں۔ ادب کی تفہیم کے اس پلِ سراط سے گزرے بغیر ہم یوسفی صاحب کی قدر نہیں جان سکیں گے۔

ہم سے اکثر یوسفی صاحب کے بارے میں یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ علمِ فلسفہ کے سند یافتہ تھے، اور یہ کہ ان کی نثر انسان ، زندگی ، اور معاشرہ پر گہرا فلسفیانہ تبصرہ کرتی تھی۔ انہوں نے اپنی تحریر یا اپنے فن کے بارے میں جو خود لکھا ، اس پر شاید ہم نے کم کم غور کیا ہے۔

ان کی کتاب زر گزشت سے جو ایک طرح سے ان کی سوانح کا ایک باب ہے، ان کی تحریر کے کچھ حوالے پیش ہیں: ’’ یہاں ایک  چھوٹی سے دنیا کی ایک جھلک دکھانی مقصود ہے جس کا ہر خانہ ، ہر کابک، بھانت بھانت کے فرماں روایانِ نا وقت کا حجلہ  پندار ہے۔ بقول مولانا حالیؔ  ۔۔’جانور ،  آدمی ، فرشتہ خدا۔۔آدمی کی ہیں سینکڑوں قسمیں‘۔۔ منشا سبق آموزی  جہاں نہیں۔ نہ اپنے سینے میں کوئی ایسی امانت یا آگ کہ امیر خسرو کی طرح یہ کہہ سکیں کہ اس صندوقِ استخوانی میں بے شمار تحفہ ہائے آسمانی ایسے تھے جو میں نے اس دن کے لیئے بچا رکھے تھے۔ اپنے وسیلہ  اظہار ۔۔۔ مزاح ۔۔ کے باب میں ، میں کسی خوش گمانی میں مبتلا نہیں۔ قہقہوں سے قلعوں کی دیواریں شق نہیں ہوا کرتیں۔ چٹنی اور اچار چٹخارے دار سہی، لیکن ان سے بھوکے کا پیٹ نہیں بھرا جاسکتا۔ نہ سراب سے مسافر کی پیاس بجھتی ہے۔ ہاں ریگستان کے شدائد کم ہو جاتے ہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز، اندوہ و انبساط، کرب و لذّت کی منزلوں سے بے نیازانہ گزر جانا بڑے حوصلے کی بات ہے۔ ۔۔ بارِ الم اٹھایا ، رنگِ نشاط دیکھا۔۔ آئے نہیں ہیں یونہی انداز بے حسی کے۔۔‘‘

’’مگر یہ نہ بھولنا چاہیے کہ خوش دلی کی ایک منزل بے حسی سے پہلے پڑتی ہے اور ایک اس کے بعد آتی ہے۔ سبھی کی مسکراہٹیں ایک جیسی نہیں ہوا کرتی۔ فالسٹاف قہقہ لگاتا ہے تو روم روم مسکرا اٹھتا ہے۔‘‘

’’قومیں جب اللہ کی زمین پر اِترا اِتر اکر چلنے لگتی ہیں تو زمین اپنے ہی زہر قند سے شق ہوجاتی ہیں اور تہذیبیں اس میں سما جاتی ہیں، شیر خوار بچے خوش ہوتے ہیں تو کلکاریاں مارتے، ہمک کر ماں کی گود میں چلے جاتے ہیں۔ ۔۔۔ ایک مسکر اہٹ وہ ہے جو نروان کے بعد گوتم بدھ کے لبوں کو ہلکا سا خمیدہ کر کے اس کی نظریں جھکا دیتی ہےــ‘‘۔

’’یہ سب سہی ، لیکن ماوارئے تبّسم وہ اہتزاز اور مزاح جو سوچ سچائی اور دانائی سے عاری ہے، دریدہ دہنی، پھکّڑ پن اور ٹھٹھول سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ زر، زمین، زن، اور زبان کی دنیا یک رخوں ، یک چشموں کی دنیا ہے۔ مگر تتلی کی سینکڑوں آنکھیں ہوتی ہیں، اور وہ ان سب کی مجموعی مدد سے دیکھتی ہے ۔شگفتہ نگار بھی اپنے پور ے وجود سے دیکھتا، سُنتا، سہارتا چلا جاتا ہے، اور فضا میں اپنے سارے رنگ بکھیر کے کسی نئے افق، اور شفق کی تلا ش میں گُم ہو جاتا ہے۔ ‘‘

ان کی پہلی کتاب ، چراغ تلے ، سے یہ حوالہ ملاحظہ ہو ، ’’ خام فن کار کے لیئے طنز ایک مقدس جھنجھلاہٹ کا اظہار بن کر رہ جاتا ہے۔ چنانچہ ہر وہ لکھنے والا  جو سماجی اور معاشی ناہمواریوں کو دیکھتے ہی دماغی بائوٹے میں مبتلا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ، خود کو طنز نگار کہنے اور کہلانے کا سزاوار سمجھتا ہے ۔ لیکن سادہ و پر کار طنز ہے بڑی جان جوکھوں کا کام ۔ بڑے بڑوں کے جی چھوٹ جاتے ہیں ۔ اچھے طنز نگار تنے ہوئے رسے پر اِ ترا اِ ترا کر کرتب نہیں دکھلاتے ، بلکہ۔۔۔ رقص یہ لوگ کیا کرتے ہیں تلواروں پر۔۔‘‘

’’اور اگر ژاں پال سارتر کی مانند ’دماغ روشن و دل تیرہ و نگاہ بیباک ‘ تو جنم جنم کی یہ جھنجھلاہٹ آخرکار ہر بڑی چیز کو چھوٹی دکھانے کا ہنر بن جاتی ہے۔ لیکن یہی زہرِ غم جب رگ و پے میں سرایت کر کے لہو کو کچھ اور تیز و تند وتوانا کر دے تو نس نس سے مزاح کے شرارے پھوٹنے لگتے ہیں۔ عملِ مزاح اپنے لہوکی آگ میں تپ کر بکھرنے کا نام ہے۔ لکڑی جل کر کوئلہ بن جاتی ہے اور کوئلہ راکھ۔ لیکن گر کوئلے کے اندر کی آگ باہر کی آگ سے تیز ہو تو پھر وہ راکھ نہیں بنتا ، ہیرا بن جاتا ہے‘‘۔

آج یوسفی ؔ صاحب کو یاد کرتے وقت بہتر یہی تھا کہ ہم آپ کے سامنے وہ معیار پیش کر دیں جو انہوں نے اول دن سے ہی اپنے لیئے طے کر لیئے تھے، جن پر وہ  قائم رہے ۔ ان کو جانے بغیر ہم اور آپ یوسفیؔ صاحب کے منصب کو نہیں سمجھ سکتے۔ اس کو سمجھنے کی شرط یہ ہے کہ قاری خود بھی ادب، فلسفے، اورتاریخ کی گہرائیوں سے واقفیت رکھتا ہو، اور معانی شناسا ہو۔

 

Yusufi

سبز پگڑی پوش بلاولؔ اور اسلامی پیپلز پارٹی

گزشتہ دنوں پاکستان میں پیپلز پارٹی کے نوجوان رہنما، بلاولؔ بھٹو زرداری کی اس تصویر کا بڑا چرچا رہا جس میں بلاولؔ ، سندھ کے وزیرِ اعلیٰ اور دیگر عمائدین کے ساتھ ایک اسلامی جماعت کے دفتر میں ایک بڑا سا سبز عمامہ سر پر پہنے ہوئے کچھ کتابوں کا مشاہد ہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے پھر اسی جماعت کے زیرِ اہتمام تجویز کی گئی فیضان ِ مدینہ یونیورسٹی کے لیئے ایک بڑا قطعہ زمین تحفہ کرنے کا اعلان کر دیا۔

پہلے تو ہم اس تصویر کو دیکھ کر خوف سے لرزے، کیونکہ سیاست میں مذہب کے دخل کا معاملہ کبھی بھی ،  سیاست، اہلِ سیاست، اور ریاست کے لیئے خوش آئند نہیں رہا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنا بلاول ؔ زرداری کے لیئے کچھ اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے ۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اب سے صرف چند سال ہی پہلے خود ان کی اپنی جماعت کے رہنمااور صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان ؔتاثیر کو ایک مذہبی جنونی نے کھلے بندوں قتل کر دیا تھا۔

پھر ہم اس تصویر کے تناظر میں پاکستان سے کچھ عمدہ کارٹون دیکھ کر مسکرائے بھی اور ہمیں خود بلاول کے نانا ، ذوالفقار بھٹو ؔ یاد آئے جنہوں نے پیپلز پارٹی کے عوامی بہبودی نظریات کو مشرف بہ اسلام کر کے اسلامی سوشلزم کا ایک نیا نظریہ پاکستانی عوام کو پیش کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے اہم نظریاتی مفکرین کو ،جن میں ڈاکٹر مبشر، جے اے رحیم ، معراج محمد خان، شیخ رشید وغیرہ شامل تھے، ٹھکانے لگا دیا تھا۔

چند لمحے بعد ہمارے یہ مسکراہٹ بھی ہواہوگئی ۔ ہمیں یاد آیا کہ جس جماعت کو رام کرنے کے لیئے بلاول زرداری نے سبز صافہ پہنا تھا ، خود اسی جماعت سے تعلق رکھنے والی مولانا نورانیؔ کی جماعت ان نو ستاروں میں شامل تھی جس نے ایک اسلامی متحدہ محاذ بنا کر بلاول کے نانا بھٹو ؔ کا ناطقہ بند کر دیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں بھٹو کو وہ کج فکر فیصلے کرنے پڑے تھے جن کی سزا پاکستان کے عوام اور سیاستدا ن آج تک بھگت رہے ہیں۔ ان فیصلوں میں پاکستان کی سیاست میں مذہب کا دخل مضبوط تر کیا گیا تھا۔ اس کے باجود نہ صرف یہ کہ بھٹو کو حکومت گنوانا پڑی تھی بلکہ ان کی جان بھی گئی تھی۔

ہمارے قاریئن جانتے ہیں کہ ہم سیاست اور عمرانیات کے اس مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں جس میں مذہب کو ریاست اور کاروبارِ حکومت سے الگ رکھا جاتا ہے۔ ہم جس جمہوری سیاسی نظام کی بات کرتے ہیں اس میں عوام کو اپنے مذہب اور مکتبہ فکر پر عمل کرنے کی آزادی توہوتی ہے لیکن ریاست یا عمائدین ِ ریاست نہ تو کسی مذہب کی بنیاد پر قانون سازی کر سکتے ہیں ، اور نہ ہی کسی مذہب ، مسلک، مذہبی فکر کے حق میں یا خلاف کوئی تعصب رکھتے ہیں۔

ہم اس فکر کا پرچار ان تاریخی حقیقتوں کے تناظر میں کرتے ہیں جن میں سابقہ ادوار میں یورپ اور دیگر ممالک میں مذہب کی سیاست میں دخل اندازی کے نتیجہ میں آج کے کئی بڑے جمہوری ممالک سخت ترین خوں ریزی اور تشدد کا سینکڑوں سال شکار رہے تھے۔پھر ان ہی ممالک کے عمائدین ِ ریاست اور دانشوروں نے طے کیا تھا کہ ان کی ریاستوں میں مذہب اور ریاست کو الگ کر دیا جائے گا۔ نتیجہ یہ کہ اب یہ ممالک نہ صرف دنیا کے اہم ترین جمہوری ممالک ہیں بلکہ معاشی اور سماجی طور پر ترقی یافتہ بھی۔

بلاول ؔزرداری تو انگلستان میں تعلیم حاصل کرکے آئے ہیں ۔ کیا انہیں یاد نہیں کہ موجودہ دور میں جب بوسنیا، یوگو سلاویہ، کروشیا وغیرہ میں ریاستوں میں مذہبی جذبات کو اچھالا گیا تھا، وہاں کیسا کشت و خون اور ظلم ہوا تھا۔ کیا انہیں نظر آتا کہ عراق اور شام میں جو بھی خونریزی ہو رہی ہے اس کی بنیاد صرف اور صرف مذہبی تعصبات پر ہے۔ کیا وہ بھول گئے کہ ایرانی انقلاب کے دوران جب بایئں بازو کی جمہوری جماعتوں نے امام خمینی کی مذہبی جماعت کا ساتھ دیا تھا تو خود ان جماعتوں کا کیا حشر ہوا تھا ، اور ان کے رہنمائوں کو پھانسیا ں لگی تھیں یا انہیں ملک بدر ہونا پڑا تھا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی جماعت پاکستا ن میں عوامی بہبود اور ترقی پسند فکر کی جماعت سمجھی جاتی تھی۔ اس کی بنیاداور قوت اس کے کارکنوں کے وہ نظریات تھے جو پاکستان کے عام کو ہرقسم کے جبر سے نجات دلانا چاہتے تھے۔ جس میں جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ ، اور مذہبی تعصبات کا جبر شامل تھا۔ یہ کارکن مذہبی جماعتوں کے مذہب کے استحصال کے خلاف تھے اور مذہبی جماعتوں سے مصالحت اور تعاون ان کی سرشت میں کبھی شامل نہیں رہا۔ یہ پیپلز پارٹی کے نظر یاتی کارکن ہی تھے جنہوں نے ذوالفقار بھٹو، اور بے نظیر بھٹو کو قوت اور طاقت فراہم کی تھی۔

بلاول ؔ زرداری کا مذہبی جماعتوں کو رام کرنے کے لیئے سبز صافے باندھنا اور مذہبی جماعتوں کومراعات دینا ، دراصل پیپلز پارٹی کے اولین اور بنیاد نظریات کی اور اور اس کے کارنوں کی توہین ہے۔ کیا بعید کہ ایک دن پیپلز رٹی کا نام اسلامی پیپلز پارٹی ہوجائے، اور پھر پیپلز پارٹی جو اب سکڑ کر سندھ تک محدود ہو گئی ہے، وہاں بھی

فنا ہو جائے۔

 

This article was published at Niazmana.com, and print editions of Urdu Times, and Pakistan Times at various North American and European cities.

A PDF document is appended below:

Sabz Pagri

Pakistan is home to the most frenetic education reforms in the world

School reform
Pakistan is home to the most frenetic education reforms in the world
Reformers are trying to make up for generations of neglect

EVERY three months, Shahbaz Sharif, the chief minister of Punjab, gathers education officials around a large rectangular table. The biggest of Pakistan’s four provinces, larger in terms of population (110m) than all but 11 countries, Punjab is reforming its schools at a pace rarely seen anywhere in the world. In April 2016, as part of its latest scheme, private providers took over the running of 1,000 of the government’s primary schools. Today the number is 4,300. By the end of this year, Mr Sharif has decreed, it will be 10,000. The quarterly “stocktakes” are his chance to hear what progress is being made towards this and other targets—and whether the radical overhaul is having any effect.

For officials it can be a tough ride. Leaders of struggling districts are called to Lahore for what Allah Bakhsh Malik, Punjab’s education secretary, calls a “pep talk”. Asked what that entails, he responds: “Four words: F-I-R-E. It is survival of the fittest.” About 30% of district heads have been sacked for poor results in the past nine months, says Mr Malik. “We are working at Punjabi speed.”

Pakistani education has long been atrocious. A government-run school on the outskirts of Karachi, in the province of Sindh, is perhaps the bleakest your correspondent has ever seen. A little more than a dozen children aged six or seven sit behind desks in a cobwebbed classroom. Not one is wearing a uniform; most have no schoolbags; some have no shoes. There is not a teacher in sight.

 

Most Pakistani children who start school drop out by the age of nine; just 3% of those starting public school graduate from 12th grade, the final year. Girls from poor families are least likely to attend (see chart); Pakistan’s gap between girls’ and boys’ enrolment is, after Afghanistan’s, the widest in South Asia. Those in school learn little. Only about half of Pakistanis who complete five years of primary school are literate. In rural Pakistan just over two-fifths of third-grade students, typically aged 8 or 9, have enough grasp of arithmetic to subtract 25 from 54. Unsurprisingly, many parents have turned away from the system. There are roughly 68,000 private schools in Pakistan (about one-third of all schools), up from 49,000 in 2007. Private money currently pays for more of Pakistan’s education than the government does.

It is in part the spread of private options that has spurred politicians like Mr Sharif into action. The outsourcing of schools to entrepreneurs and charities is on the rise across the country. It is too early to judge the results of this massive shake up, but it seems better than the lamentable status quo. If this wholesale reform makes real inroads into the problems of enrolment, quality and discrimination against girls that bedevil Pakistan, it may prove a template for other countries similarly afflicted.

There are many reasons for the old system’s failure. From 2007-15 there were 867 attacks by Islamist terrorists on educational institutions, according to the Global Terrorism Database run by the University of Maryland. When it controlled the Swat river valley in the north of the country, the Pakistani Taliban closed hundreds of girls’ schools. When the army retook the area it occupied dozens of them itself.

 

Poverty also holds children back. Faced with a choice between having a child help in the fields or learn nothing at school, many parents rationally pick the former. The difference in enrolment between children of the richest and poorest fifth of households is greater in Pakistan than in all but two of the 96 developing countries recently analysed by the World Bank.

Yet poverty is not the decisive factor. Teaching is. Research by Jishnu Das of the World Bank and colleagues has found that the school a child in rural Pakistan attends is many times more important in explaining test scores than either the parents’ income or their level of literacy. In a paper published in 2016, Mr Das and Natalie Bau of the University of Toronto studied the performance of teachers in Punjab between 2003 and 2007 who were hired on temporary contracts. It turned out that their pupils did no worse than those taught by regular ones, despite the temporary teachers often being comparatively inexperienced and paid 35% less.

Teachers’ salaries account for at least 87% of the education budget in Pakistan’s provinces. A lot of that money is completely wasted. Pakistan’s political parties hand out teaching jobs as a way of recruiting election workers and rewarding allies. Some teachers pay for the job: 500,000 rupees ($4,500) was once the going rate in Sindh. At the peak of the problem a few years ago, an estimated 40% of teachers in the province were “ghosts”, pocketing a salary and not turning up.

“Pupils’ learning outcomes are not politically important in Pakistan,” says the leader of a large education organisation. Graft is not the only problem. Politicians have treated schools with a mix of neglect and capriciousness. Private schools have been nationalised (1972) and denationalised (1979); Islam has been inserted and removed as the main part of the curriculum. The language of instruction has varied, too; Punjab changed from Urdu to English, only to revert to Urdu. Sindh, where teachers who are often Sindhi speakers may struggle to teach Urdu, announced in 2011 that Mandarin would be compulsory in secondary schools.

Getting schooled

It is against this background that organisations like The Citizens Foundation (TCF) have developed. The charity runs perhaps the largest network of independently run schools in the world, educating 204,000 pupils at not-for-profit schools. It is also Pakistan’s largest single employer of women outside the public sector; in an effort to make girls feel safer in class, all of TCF’s 12,000 teachers are female. At its Shirin Sultan Dossa branch near a slum on the outskirts of Karachi, one girl is more than holding her own. At break-time on the makeshift cricket pitch she is knocking boys’ spin-bowling out of the playground.

In 2016 TCF opened its first “college” for 17- and 18-year-olds at this campus in an attempt to keep smart poor pupils in school longer. Every day it buses 400 college pupils in from around the city. It builds schools using a standard template, typically raising about $250,000 for each of them from donors; it recruits and trains teachers; and it writes its own curriculums.

Since 2015 TCF has taken over the running of more than 250 government schools in Punjab, Sindh and Khyber Pakhtunkhwa. It gets a subsidy of around 715 rupees per month per child, which it tops up with donations. So far it has increased average enrolment at schools from 47 to 101 pupils, and test results have improved.

The outsourcing of state schools to TCF is just one part of the Sindh government’s recent reforms. “Three years ago we hit rock bottom,” says a senior bureaucrat, noting that 14,000 teaching jobs had been doled out in one year to supporters of the ruling Pakistan Peoples Party. Since then it has used a biometric attendance register to cut 6,000 ghost teachers from the payrolls, and merged 4,000 sparsely attended schools into 1,350. Through the Sindh Education Foundation, an arms-length government body, it is funding “public-private partnerships” covering 2,414 schools and 653,265 pupils. As well as the outsourcing programme, schemes subsidise poor children to attend cheap private schools and pay entrepreneurs to set up new ones in underserved areas.

This policy was evaluated in a paper by Felipe Barrera-Osorio of Harvard University and colleagues published last August. The researchers found that in villages assigned to the scheme, enrolment increased by 30% and test scores improved. Parents raised their aspirations—they started wanting daughters to become teachers, rather than housewives. These results were achieved at a per-pupil cost comparable to that of government schools. “Pakistan’s education challenge is not underspending. It is misspending,” says Nadia Naviwala of the Wilson Centre, a think-tank.

While Sindh has pioneered many policies, Punjab has taken them furthest. The Punjab Education Foundation (PEF), another quasi-independent body, oversees some of the largest school-privatisation and school-voucher programmes in the world. It has a seat with the ministers and administrators at Mr Sharif’s quarterly meetings. The Punjab government no longer opens new schools; all growth is via these privately operated schools. Schools overseen by PEF now teach more than 3m children (an additional 11m or so remain in ordinary government-run schools).

This use of the private sector is coupled with the command-and-control of Mr Sharif, who is backed by Britain’s Department for International Development, which helps pay for support from McKinsey, a consultancy, and Sir Michael Barber, who ran British prime minister Tony Blair’s “Delivery unit”. The latest stocktake claimed an “unprecedented” 10% increase in primary-school enrolment since September 2016, an extra 68,000 teachers selected “on merit”, and a steady increase in the share of correct answers on a biannual test of literacy and numeracy.

Some are concerned about the stress on meeting targets in this “deliverology” model. For one thing, independent assessment of the system’s claimed success is hard. Mr Das argues that there is no evidence from public sources that support Punjab’s claims of improved enrolment since 2010. Nor is the fear provoked by Mr Sharif always conducive to frank self-appraisal: some officials may fudge the numbers. Ms Naviwala points out that two of the worst-performing districts in spring 2015 somehow became the highest performers a few months later. She suggests that similar data-driven reforms in Khyber Pakhtunkhwa may have a better chance of success, since they are less dependent on the whims of a single minister. For their part Punjab and its international backers insist that the data are accurate, and that the other publicly available data are out of date.

No one thinks that everything is fixed. Around the corner from that parlous primary school on the outskirts of Karachi is another, privately run school hand-picked for your correspondent’s visit by civil servants. In maths classes pupils’ workbooks have no entries for the past fortnight. What sums there are show no working; answers were simply copied. The head teacher seems to care most about his new audiovisual room, the screen in which is not for pupils, but for him: a bootleg Panopticon, with six CCTV feeds displayed on a wall-mounted screen. This is an effective way of dealing with ghosts. But as the head explains how great his teachers are, one of them strolls up to a boy in the front of her class and smacks him over the head.

Even if there is bluster aplenty and a long way to go, though, the fact that politicians are burnishing their reputations through public services, rather than patronage alone, is a step forward. And if there is a little Punjabi hype to go with the Punjabi speed, then that may be a price worth paying. For too long Pakistani children have suffered because politicians have treated schools as political tools. They deserve much better.

This article appeared in the Briefing section of the print edition under the headline “Stepping up”
Economist.com

Mir Mohammad Ali Talpur’s book on National Issues and Baluchistan

Mir Mohammad Ali Talpur has penned numerous articles on Pakistan’s natioanal issues specially in the context of Baluchistan and Human Rights.

An Urdu translation of a collection of his articles has been published that is not easily available.

Interested people may read it by clicking the following link:
Mir Mohammad Ali Talpur’s Paleed Tar Bashad

A search for self – by – Muneeza Shamsie

A search for self

By Muneeza Shamsie
Authors: Dawn , October 01, 2006

(Symposium note: A must read article on a master writer and critic Zulfikar Ghose, with a poem by him on Nusrat Fateh Ali Khan)

Zulfikar Ghose

Zulfikar Ghose occupies a unique place in Pakistani letters. He is the only writer of Pakistani origin to have produced such an extensive, varied and accomplished body of English language poetry, fiction and criticism. His one novel about Pakistan The Murder of Aziz Khan had such a powerful impact, that a Pakistani readership of the 1960s still remember him for that one book. In that oppressive era no one dared criticise the state: Ghose’s portrayal of rampant corruption and social injustice touched a deep chord. He described Pakistan’s crude new capitalism of the 1950s and his plot revolved around a poor Punjab farmer systematically destroyed by ruthless industrialists. His was the first cohesive Pakistani English language novel written in modern English and was filled with poetic images about the land and its people, to which he returned with his intricate, eleventh novel, The Triple Mirror of the Self.

“I am very conscious of the art of the novel, he said My literary ancestors go back to Cervantes, Boccacio and The Arabian Nights, and also Joyce, Woolf, Nabokov, Becket. I don’t see any point in writing a novel unless I am worthy of these people. My greatest passion in fiction has been Proust in recent years because of the way he constructs his sentences. I like Conrad because I like his prose. I am not interested in ideas, in the end it is the music of the language that matters.

He is biting in his criticism of current literary hype and the veneration accorded to writers for reasons of geography, political correctness, ethnicity and other non-literary criteria. He believes language and form is paramount and has often said that all he has tried to do is to produce good literature. A contemporary of V.S. Naipaul he is an early example of the diasporic writer who defines himself through the use of language, writing and storytelling. However, people often question his identity: he was born in Sialkot in 1935, grew up in Mumbai, migrated to Britain, lived and taught at the University of Texas at Austin, but writes mostly about South America. Yet he perceives his life as an endless exile from his native land. He writes and speaks with passion about Pakistan and the landscapes of his childhood in Punjab as well as the sense of continuity, history and belonging he experiences when he visits ancient Taxila. He said “I would not hazard to guess how or if identity becomes clearer over the years, but it is just a sense of a place to which your soul belongs.

A soft spoken, informal man with a quiet sense of humour, accompanied often by a twinkle in his eye, Zulfikar Ghose was in Pakistan recently, after 16 years, to visit his sisters in Lahore. He gave an illuminating literary talk in Karachi and read new poems, including a tribute to Nusrat Fateh Ali. He spoke a little about himself too. He explained that his father, Khwaja Mohammed Ghaus, frequented Europe on business trips once, but Europeans could not pronounce Ghaus — so he changed it to Ghose.

At seven, Zulfikar Ghose moved with his family from Sialkot to Bombay, a city he loved as he did the “the wonderful, magical Arabian Sea”. He joined the Don Bosco School and his school friends included Shashi Kapoor. Partition coincided with Ghose’s near-fatal illness but was traumatic personally because he suddenly found himself regarded as an alien Muslim. In 1952, his family migrated to London. Ghose joined a Grammar School in Chelsea, which nurtured his two great passions: poetry and cricket. He had started writing poetry in India at 14 but “the accident of going to England at 17 and to a school where the headmaster was a Shakespeare scholar and English teacher shaped his literary sensibilities. He was introduced to the finest classics and also encouraged to read contemporary writers such as T.S. Eliot and Dylan Thomas. This would not have happened in India or Pakistan,” Ghose said.

In 1959, he graduated from Keele University, edited an anthology of poetry from British universities and forged a historic friendship with BS Johnson (1933-73). They would critique each other’s work and talk endlessly about literature. “BS Johnson wrote short stories and I didn’t, but we felt nothing was happening with the short story in English: it was stagnant — and we should revive it! The arrogance of youth!” he laughed.

Ghose and Johnson co-authored a story collection A Statement Against Corpses for which Ghose wrote his first fiction. He spoke warmly of Johnson who became famous as an experimental writer, but shockingly commited suicide. Ghose and his wife, the Brazilian artist Helena de la Fontaine came to London for the publication of Johnson’s topical biography two years ago. The couple had married in London in 1964 and Ghose first saw Helena’s homeland, Brazil in 1966 and it reminded him a great deal of his own. Interestingly, their work has a similar kinship: the images in his novels and in her works of art often “overflow into each other” through a rather subtle, subconscious process.

In 1961/2 The Observer sent Ghose to Pakistan to cover the MCC tour. He travelled extensively across East and West Pakistan and felt greatly at home, but could not reconcile himself to military rule. The notion of a paradise lost to tyranny, corruption and greed suggested the plot for The Murder of Aziz Khan. Meanwhile he published a first poetry volume and a first novel, as well as a memoir which reflects the themes of alienation, dispossession and quest running through his oeuvre. His poems appeared in Oxford University Press’ (OUP) pioneering anthologies of Pakistani English poetry and in the 1972 Penguin Modern Poets 25: Gavin Ewart, Zulfikar Ghose, BS. Johnson. The same year, his third poetry volume appeared. His Selected Poems published by OUP consists of poems written between 1959-1989 which reveal the development of Ghose’s increasingly sophisticated verse and its link with the landscapes of his fiction.

He is a distinguished “writer’s writer” and does not feel any need to have a literary ancestor from his “ethnic” background. He declared, “I am not an anthropologist,” but expressed admiration and affection for the Indian novelist, Raja Rao, a colleague at the University of Texas at Austin. Ghose also spoke of his now-famous literary correspondence with the American novelist, Thomas Berger. He introduced Ghose to many significant books; Ghose recommended South American novelists to him. “The most important is Machado de Assis who lived in the second half the 19th century,” he said. “He is Brazilian and as important as Joyce, Kafka and Chekov and yet he is not known as he should be.”

The Ghose-Berger letters, spanning 20 years, are now preserved at the university. Berger’s picaresque novel Little Big Man (made into a haunting film) suggested the structure for Ghose’s historical trilogy, The Incredible Brazilian which developed from images triggered off by an anthropologist’s account of 18th-century Brazil. The trilogy received great critical acclaim and was translated into 20 languages; it reconstructs Brazil’s story through the reincarnations of Gregorio, its narrator. The whole does have a clear subcontinental resonance, but Ghose made the explicit connection between South America and South Asia in The Triple Mirror of The Self which welds autobiographical elements with grand, philosophical themes. This clever, surrealist tale of exile and migration across four continents revolves around the narrator’s quest for his core, his essential self and takes him backwards in time to Mumbai and ultimately the Punjab: the book begins and ends with mirror images of the Andes and the Hindu Kush.

Ghose compares the process of writing to a spiritual quest, culminating in self-revelation. Discussing his 1998 story collection Veronica and the Gongora Passion, he explained that his story “A Mediterranean tale” about a boy Abdul Bassam Saeed, who was stolen from his parents in a desert, but rose to great militiary heights and fell in love, began with a sentence that came to Ghose’s mind: “But by now I have seen all illusions.” He played around with it, until it became the story’s first sentence, but months passed. He read a lot, while “listening as usual to Nusrat and the Sabri Brothers” and became interested in the idea of Sufism, beauty and God until images appeared, inspired by the books, music and his own Mediterranean experiences. The subject matter “resolved itself” and he created a story about “the illusion of life and spiritual expression.” He added, “This is how a story emerges. The first draft showed me what my mind was seeking. Then came the rhythm, the imagistic content and the shaping of the language, which had to have imaginative power.”

There is some truly fine writing in Veronica. Each story was different. Brazil, Peru, America, Britain, Spain, India, Pakistan — Ghose has gathered up all these countries and a myriad of characters and spun them into this one collection, with that precision and control that characterises his work.


 

Nusrat
How sweet upon the tongue, Mohammed’s name,
you sang, and the chorus, like a crowd incited
by an orator, repeated the line, its united
voice charged with ecstasy. Then, clapping hands
and a quick sharp prelude on the harmonium,

you broke out with Ali, Ali, Ali–O who can
discover the name of the great God who first
does not call out Ali, Ali, Ali! In the concert
hall even the unbelievers clapped in time
with your chorus, driven wild by your voice,

and saw visions reserved for the faithful.
But then the next thing I hear you are dead.
Life spent devoted to praising God in song,
God’s very breath in your voice, audiences
from Tokyo across Europe to New York shivered

when without knowing the words they understood
your Punjabi, My eyes await your arrival,
for not the words but your voice brought intelligence
of God, your voice, Nusrat, made us all lovers
of beauty and truth, two of God’s names, your

voice raised us and you took us, shy as brides, to Him.
But then the next thing I hear you are dead.
God, this invisible hacker who transmits
a seductive programme, gaudies the brain’s screen
with visions, only to launch a killer virus!— Zulfikar Ghose


POETRY: The Loss of India (1964), Jets From Orange (1967), The Violent West (1972), A Memory of Asia (1984), Selected Poems (1991).

MEMOIRS: The Confessions of a Native Alien (1965).

STORY COLLECTIONS: Statement Against Corpses with B.S. Johnson (1964), Veronica and the Gongora Passion (1998).

NOVELS: The Contradictions (1966), The Murder of Aziz Khan (1967), The Incredible Brazilian Trilogy (1972/75/78), Crump’s Terms (1975), Hulme’s Investigations into the Bogart Script (1981), A New History of Torments (1982), Don Bueno (1984), Figures of Enchantment (1986), The Triple Mirror of Self (1992).

CRITICISM: Hamlet, Prufrock and Language (1978), The Fiction of Reality (1983), Shakespeare’s Mortal Knowledge (1993).

 

Thanks to Dawn: Authors; October 1, 2006

https://web.archive.org/web/20080829131324/http://www.dawn.com/weekly/books/archive/061001/books3.htm

Abul Aa’ala Ma’arri ————— ابولاعلیٰ معرّی۔۔۔۔۔ by Mohammed Kazim

This Urdu article by a distinguished Pakistani scholar on Abul Aa’ala al Ma’arri , requires attention. It is is probably among the few, or maybe the only comprehensive article on the poet who is a member of Arabic Literary canon.

People in quest of knowledge can read it here in Urdu PDF by clicking the link below:

Abul A’ala al Ma’ari
Acknowledgment: We are grateful to Dr. Mohammed Khursheed Abdullah, a connoisseur of literature and Culture.